تہران (ویب ڈیسک) 10 جون 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی ہے جب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کی حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی 'ایم کیو نائن ریپر' (MQ-9 Reaper) ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، جس نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو ایک بار پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ڈرون کہاں اور کیسے مار گرایا گیا؟
ایرانی حکام کے مطابق، امریکی جاسوس ڈرون کو صوبہ بوشہر کے شہر 'جم' کے قریب فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فضائی دفاعی یونٹس کا کہنا ہے کہ ڈرون خلیجِ فارس کے شمالی حصے سے ایرانی عسکری تنصیبات کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا گیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز کے قریب پہلے ہی فوجی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
ریپر ڈرون کی اہمیت اور امریکی ردِعمل
'ایم کیو نائن ریپر' ڈرون امریکی فضائیہ اور خفیہ اداروں کا ایک انتہائی جدید اثاثہ سمجھا جاتا ہے، جو جاسوسی، نگرانی اور انتہائی درستگی کے ساتھ ہدفی حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈرون کی تباہی کو ایران کی دفاعی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، تاحال امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ البتہ امریکی حکام نے خطے میں اپنے فوجی آپریشنز کی تصدیق ضرور کی ہے، جس سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے میں مزید فوجی کشیدگی دیکھی جا سکتی ہے۔
عالمی اثرات اور خدشات
فوجی ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ہر دشمن کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ عالمی برادری اس پیش رفت پر شدید تشویش کا شکار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علاقے میں بڑھنے والی کوئی بھی عسکری کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
Iranian Air Defenses Destroy US MQ-9 Drone Over Hormozgan Province
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) June 10, 2026
Iran’s advanced air defense systems successfully downed a US MQ-9 drone. pic.twitter.com/0u0I32dQuW

0 Comments