کراچی (علیم نواب خان) 10 جون 2026
کراچی کی معاشی اور تجارتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ایم ٹی خان روڈ پر واقع KPT کی 140 ایکڑ پر مشتمل قیمتی ساحلی اراضی پر ایک جدید، عالمی معیار کے 'میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ' کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے سعودی بزنس کونسل–نجد گیٹ وے ہولڈنگ کمپنی، عارف حبیب ڈولمین ریئٹ مینجمنٹ لمیٹڈ (AHDRML) اور پاکستان کارپوریٹ کنسورشیم نے مشترکہ طور پر ہاتھ ملایا ہے۔
اسٹریٹجک اشتراک اور معاشی اہداف
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی سرپرستی میں ہونے والا یہ اسٹریٹجک اشتراک پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے کے اہم اہداف میں KPT کے غیر استعمال شدہ یا کم کارآمد اثاثوں کی قدر میں اضافہ کرنا، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور کراچی کو بین الاقوامی سطح پر تجارت اور کاروبار کا ایک متحرک مرکز بنانا شامل ہے۔ اس میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام سے نہ صرف روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، بلکہ پاکستان کی برآمدی اور تجارتی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
سعودی وفد کی دلچسپی اور بحری تجارتی تعاون
یہ مفاہمتی یادداشت سعودی-پاکستان مشترکہ بزنس کونسل (JBC) کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے دوران طے پائی، جس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے۔ سعودی وفد نے خاص طور پر بحری تجارتی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ مل کر مستقبل کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس تعاون کو خطے میں سعودی-پاکستان اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
ضابطہ جاتی تقاضے اور شفافیت
واضح رہے کہ اس منصوبے کا نفاذ پاکستان کے مروجہ قوانین اور تمام ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل تکمیل سے مشروط رکھا گیا ہے۔ حکومت اور KPT کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ یہ عظیم منصوبہ نہ صرف شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترے، بلکہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق، اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ کراچی کی ساحلی حدود کو جدید ترین کاروباری مراکز میں تبدیل کر دے گا، جو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہوگا۔




0 Comments